Gender Murder in India: 50 million girls and women killed before and after birthPosted on August 3, 2009 by The Editorsکوکھ میں قتل ارشاد عرشی ملکarshimalik50@hotmail.comابھی جنم نہیں می ...
Gender Murder in India: 50 million girls and women killed before and after birth Posted on August 3, 2009 by The Editors
کوکھ میں قتل
ارشاد عرشی ملک arshimalik50@hotmail.com
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں سہم سہم کے میں بے موت مرتی رہتی ہوں
سُنا ہے میں نے کہ سائنس کی یہ ترقی بھی ہمارے واسطے لائی ہے اک نئی اُفتاد سُنا ہے،ایسی مشینیں بھی ہو گئیں ایجاد جو ماں کی کوکھ کے اندر کے سب مناظر بھی چمکتی ،جاگتی سکرین پر دکھاتی ہیں جو نسل و جنس کا پورا پتہ بتاتی ہیں
سُنا ہے مائیں بھی خود بیٹیوں کی دُشمن ہیں جب اپنے رحم میں بیٹی کا جان لیتی ہیں تو اس کے قتل کی پھر دل میں ٹھان لیتی ہیں
بھلی تھی رسم ہمیں زندہ گاڑ دینے کی تو قبر بنتی تھی آنسو بہائے جاتے تھے جو باپ لے کے ہمیں قتل گاہ جاتا تھا نئے لباس میں ہم بھی سجائے جاتے تھے ہمارے سر پہ ربن بھی لگائے جاتے تھے
پر ایسا ظلم تو دیکھا،سُنا نہ دنیا میں بہت سی ہیں مری بہنیں کہ جن کو مل نہ سکا کفن کے نام پہ کپڑا کوئی نیا عرشیؔ کہ جن کا کوئی جنازہ اٹھا نہ ارتھی ہی زمیں پہ ایک دو بالشت بھی جگہ نہ ملی ہمیں تو ماوں کے رحموں میں بھی پنہ نہ ملی
بہت سی ہیں مری بہنیں جو ماوں کے ہاتھوں اُنہیں کی کوکھ کے اندر مٹائی جاتی ہیں خوشی کے ساتھ گٹر میں بہائی جاتی ہیں
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں